المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 2425–2443) باب: (احادیث 2425 تا 2443)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، وَعَنْ أَبِي يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ مِنَ الْأَعْرَابِ فَأَبْصَرَ عَلَيْهِمُ الْخَصَاصَةَ وَالْجَهْدَ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ، وَحَضَّهُمْ عَلَيْهَا، وَرَغَّبَهُمْ فِيهَا، فَأَبْطَئُوا عَلَيْهِ حَتَّى رُؤِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَجَاءَ رَجُلٌ بِقَبْضَةٍ مِنْ وَرِقٍ، فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ حَتَّى تَتَابَعَ النَّاسُ بِالصَّدَقَةِ حَتَّى رُؤِيَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّرُورُ، فَقَالَ: «مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ لَهُ أَجْرُهَا، وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً، فَعُمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ»سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس بدووں میں سے کچھ لوگ آئے، تو آپ ﷺ نے ان پر تنگ دستی اور مشقت کے آثار دیکھے، تو آپ ﷺ نے لوگوں سے خطاب کیا، اللہ عزوجل کی حمد و ثنا بیان کی، پھر انہیں صدقے کا حکم دیا، اس پر ابھارا، اور اس کی ترغیب دی، تو لوگوں نے اس میں تاخیر کی یہاں تک کہ یہ بات آپ ﷺ کے چہرے پر ظاہر ہو گئی۔ تو ایک آدمی چاندی کی ایک مٹھی لے کر آیا اور اسے آپ ﷺ کو دیا، پھر دوسرا آیا، یہاں تک کہ لوگ ایک دوسرے کے پیچھے صدقہ دینے لگے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر خوشی دیکھی گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کرے، اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے، اسے اس کا اجر اور اس پر عمل کرنے والوں کا اجر ملے گا، ان کے اجر میں کوئی کمی کیے بغیر۔ اور جو اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کرے، اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے، اس پر اس کا گناہ اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ ہوگا، ان کے گناہ میں کوئی کمی کیے بغیر۔“