المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما روى ولد جرير، عن جرير، منهم المنذر بن جرير، عن أبيه باب: سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کی اولاد کی ان سے روایات، جن میں منذر بن جریر کی اپنے والد سے روایت بھی شامل ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ح وثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، قَالُوا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ النَّهَارِ، فَجَاءَ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ حُفَاةً عُرَاةً مُجْتَابِي النِّمَارِ عَلَيْهِمُ السُّيُوفُ وَالْعِبَاءُ، فَقُلْتُ: عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغَيَّرَ لَمَّا رَأَى بِهِمْ، فَقَامَ فَدَخَلَ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَخَطَبَ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ} [النساء: ١] الْآيَةَ قَرَأَهَا إِلَى قَوْلِهِ: {وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} [الحشر: ١٨] «تَصَدَّقَ امْرُؤٌ مِنْ دِرْهَمِهِ، تَصَدَّقَ امْرُؤٌ مِنْ دِينَارِهِ، مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ مِنْ صَاعِ شَعِيرِهِ مِنْ كَذَا مِنْ كَذَا» ، حَتَّى ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَقَّ تَمْرَةٍ فَجَاءَ رَجُلٌ بِصُرَّةٍ قَدْ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ أَوْ قَدْ عَجَزَتْ، قَالَ: وَتَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ، فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، فَقَالَ: «مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً صَالِحَةً كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ» ،… پھر آپ ﷺ نکلے، ظہر کی نماز پڑھائی، اور خطبہ دیا: ”اے لوگو! اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا“ [سورۃ النساء: 1] - یہ آیت پڑھی، یہاں تک کہ اس فرمان تک پہنچے: ”اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا“ [سورۃ الحشر: 18] - ”کوئی آدمی اپنے درہم میں سے صدقہ کرے، کوئی آدمی اپنے دینار میں سے صدقہ کرے، اپنے کھجور کے صاع میں سے، اپنے جو کے صاع میں سے، اس اس سے“، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے ایک ٹکڑے کا ذکر کیا۔ تو ایک آدمی ایک پوٹلی لے کر آیا جو اس کی ہتھیلی سے بمشکل سنبھلتی تھی، یا اس سے سنبھل ہی نہ سکی۔ کہتے ہیں: پھر لوگ ایک دوسرے کے پیچھے آنے لگے، یہاں تک کہ میں نے کھانے اور کپڑوں کے دو ڈھیر دیکھے، اور میں نے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ خوشی سے چمکتا دیکھا، گویا وہ سونے کا پانی چڑھا ہوا ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اسلام میں کوئی اچھا اور نیک طریقہ رائج کرے، اسے اس کا اجر ملے گا اور قیامت تک اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اجر ملے گا، ان کے اجر میں کوئی کمی کیے بغیر۔ اور جو اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کرے، اس پر اس کا گناہ ہوگا اور قیامت تک اس پر عمل کرنے والوں کا بھی گناہ ہوگا، ان کے گناہ میں کوئی کمی کیے بغیر۔“