حدیث نمبر: 2256
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُطِيعٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّ عُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ الْجَالِسَةُ إِلَى جَانِبِكَ؟ قَالَ: «عَائِشَةُ» قَالَ: أفَلَا أَنْزَلُ لَكَ عَنْ خَيْرٍ مِنْهَا؟ يَعْنِي امْرَأَتَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا» قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْرُجْ فَاسْتَأْذِنْ» قَالَ: إِنَّهَا يَمِينٌ عَلَيَّ أَنْ لَا أَسْتَأْذِنَ عَلَى مُضَرِيٍّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَحِمَهَا اللهُ: مَنْ هَذَا، قَالَ: «هَذَا أَحْمَقُ مُتَّبَعٌ»
ترجمہ

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عیینہ بن حصن نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ کے پاس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں۔ اس نے پوچھا: آپ کے پہلو میں بیٹھی یہ کون ہے؟ فرمایا: ”عائشہ۔“ اس نے کہا: کیا میں آپ کو اس سے بہتر کے بدلے نہ دلا دوں؟ اس کی مراد اپنی بیوی سے تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”نکل جاؤ اور اجازت لے کر آیا کرو۔“ اس نے کہا: میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ کسی مُضَری سے اجازت نہیں لوں گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یہ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک بےوقوف ہے جس کی پیروی کی جاتی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2256
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 305، حدیث 2269