حدیث نمبر: 2255
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُطِيعٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: دَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ، فَاسْتَسْقَى، فَأُتِيَ بِمَاءٍ، فَسَتَرَهُ فَشَرِبَ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: «الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ أُوتُوهُمَا وَمُنِعْتُمُوهُما»
ترجمہ

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عیینہ بن حصن نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی موجود تھا۔ اس (آدمی) نے پانی طلب کیا تو پانی لایا گیا، اس نے (پردہ کر کے) چھپ کر پیا۔ عیینہ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حیا اور ایمان ہے، انہیں یہ دیا گیا ہے اور تم اس سے محروم رکھے گئے ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2255
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 304، حدیث 2268