حدیث نمبر: 2246
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: " كُنْتُ بِالْيَمَنِ، وَمَعِي ذُو كَلَاعٍ وَذُو عَمْرٍو، فَأَقْبَلْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ذُو عَمْرٍو: يَا جَرِيرُ إِنْ يَكُ صَاحِبُكَ كَمَا تَذْكُرُ، لَقَدْ أَتَى عَلَى أَجَلِهِ مُنْذُ ثَلَاثٍ، فَرَفَعَ لَنَا رَجُلٌ، فَقُلْنَا: مَا الْخَبَرُ، قَالُوا: قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ وَالنَّاسُ صَالِحُونَ ثُمَّ رَجَعْنَا، فَقَالَا أَقْرِئْ صَاحِبَكَ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ ذُو عَمْرٍو: يَا جَرِيرُ إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا صَالِحَينَ، مَا إِذَا هَلَكَ أَمِيرٌ، قَامَ أَمِيرٌ، فَإِذَا مَا كَانَ سُيُوفًا كُنْتُمْ مُلُوكًا تَرْضَوْنَ رِضَا الْمُلُوكِ، وَتَغْضَبُونَ غَضَبَ الْمُلُوكِ "
ترجمہ

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں یمن میں تھا اور میرے ساتھ ذو کلاع اور ذو عمرو تھے۔ میں ان سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بیان کرنے لگا، تو ذو عمرو نے کہا: اے جریر! اگر تمہارے ساتھی کا وہی حال ہے جو تم بیان کر رہے ہو، تو تین دن پہلے ان کی اجل آ چکی ہے۔ پھر ہمارے سامنے ایک آدمی نمودار ہوا، ہم نے پوچھا: کیا خبر ہے؟ لوگوں نے بتایا: رسول اللہ ﷺ کا وصال ہو گیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے، اور لوگ نیک حالت پر ہیں۔ پھر ہم واپس آئے تو ان دونوں نے کہا: اپنے ساتھی کو ہمارا سلام پہنچا دینا۔ پھر ذو عمرو نے کہا: اے جریر! تم لوگ ہمیشہ نیک رہو گے، جب تک یہ حال رہے کہ جب کوئی امیر فوت ہو تو دوسرا امیر کھڑا ہو جائے۔ لیکن جب معاملہ تلواروں پر آ گیا تو تم بادشاہ بن جاؤ گے، بادشاہوں کی طرح راضی ہو گے اور بادشاہوں کی طرح ناراض ہو گے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2246
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 301، حدیث 2259