المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم عبد الله أخت شداد بن أوس الأنصاري باب: سیدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہا، سیدنا شداد بن اوس انصاری رضی اللہ عنہ کی بہن
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ أُمِّ عَبْدِ اللهِ أُخْتِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ: أَنَّهَا بَعَثَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِ لَبَنٍ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَهُوَ صَائِمٌ وَذَلِكَ فِي طُولِ النَّهَارِ وَشِدَّةِ الْحَرِّ، فَرَدَّ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّى كَانَ لَكِ هَذَا اللَّبَنُ؟ قَالَتْ: مِنْ شَاةٍ لِي فَرَدَّ إِلَيْهَا رَسُولَهَا: أَنَّى كَانَتْ لَكِ هَذِهِ الشَّاةُ؟ قَالَتْ: اشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِي، فَأَخَذَهُ مِنْهَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ أُمُّ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ بَعَثْتُ إِلَيْكَ بِاللَّبِنِ مُرَائِيَّةً لَكَ مِنْ طُولِ النَّهَارِ وَشِدَّةِ الْحَرِّ، فَرَدَدْتَ الرَّسُولَ فِيهِ. فَقَالَ لَهَا: «بِذَلِكَ أُمِرَتِ الرُّسُلُ، أَنْ لَا نَأْكُلَ إِلَّا طَيِّبًا وَلَا نَعْمَلَ إِلَّا صَالِحًا»سیدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہا، شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی بہن، سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف افطار کے وقت دودھ کا ایک پیالہ بھیجا جبکہ آپ ﷺ روزے سے تھے، اور یہ دن کی طوالت اور شدید گرمی کا موسم تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے قاصد کو یہ پوچھتے ہوئے واپس بھیجا: تمہیں یہ دودھ کہاں سے ملا؟ انہوں نے کہا: میری اپنی بکری سے۔ آپ ﷺ نے پھر قاصد کو یہ پوچھتے ہوئے واپس بھیجا: یہ بکری تمہیں کہاں سے ملی؟ انہوں نے کہا: میں نے اسے اپنے مال سے خریدا تھا۔ تب آپ ﷺ نے وہ دودھ قبول فرما لیا۔ اگلے دن ام عبداللہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کے پاس دودھ اس لیے بھیجا تھا کہ دن کی طوالت اور شدید گرمی میں آپ کو تراوٹ ملے، مگر آپ نے قاصد کو اس کے ساتھ واپس بھیج دیا۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”رسولوں کو یہی حکم دیا گیا ہے کہ ہم صرف پاکیزہ چیز کھائیں اور صرف نیک عمل کریں۔“