المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم معاذ الأنصارية باب: سیدہ ام معاذ انصاریہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ: " دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ وَهُوَ يَمُوتُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ، فَسُجِّيَ عَلَيْهِ وَكَانَ عُثْمَانُ نَازِلًا عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا أُمُّ مُعَاذٍ، قَالَ: فَمَكَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُكْثًا طَوِيلًا عَلَيْهِ وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ، ثُمَّ تَنَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَى، فَلَمَّا بَكَى بَكَى أَهْلُ الْبَيْتِ، فَقَالَ: «رَحِمَكَ اللهُ أَبَا السَّائِبِ» وَكَانَ السَّائِبُ قَدْ شَهِدَ مَعَهُ بَدْرًا، قَالَ: فَتَقُولُ أُمُّ مُعَاذٍ: هَنِيئًا لَكَ أَبَا سَائِبِ الْجَنَّةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا يُدْرِيكِ يَا أُمَّ مُعَاذٍ؟» ، أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا، قَالَتْ: لَا وَاللهِ لَا أَقُولُهَا لِأَحَدٍ بَعْدَهُ أَبَدًا "… وہ (راوی) کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ان (ابوسائب) کے پاس دیر تک ٹھہرے رہے اور آپ ﷺ کے ساتھی بھی آپ کے ساتھ تھے، پھر رسول اللہ ﷺ الگ ہو کر رونے لگے۔ جب آپ ﷺ روئے تو گھر والے بھی رونے لگے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم فرمائے، اے ابوسائب!“ اور سائب بدر کی لڑائی میں آپ ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں: ام معاذ کہنے لگیں: اے ابوسائب! تمہیں جنت مبارک ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم، اے ام معاذ؟ اسے تو یقین (موت) آ چکا ہے، اور ہم اس کے بارے میں خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے۔“ وہ کہتی ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! اس کے بعد میں کسی کے بارے میں یہ بات کبھی نہیں کہوں گی۔