المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم زياد الأشجعية باب: سیدہ ام زیاد اشجعیہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ الْأَشْجَعِيُّ، ثنا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ، أَنَّهَا غَزَتْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ سَادِسَةَ سِتِّ نِسْوَةٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: " بِإِذْنِ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟ وَرَأَيْتُ فِيهِ الْغَضَبَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ خَرَجْنَا وَمَعَنَا دَوَاءٌ نُدَاوِي بِهِ الْجَرْحَى، وَنُنَاوِلُ السِّهَامَ، وَنَسْقِي السَّوِيقَ، وَنَغْزِلُ الشَّعْرَ وَنُعِينُ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَقَالَ: لَنَا أَقِمْنَ فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ قَسَمَ لَنَا كَمَا قَسَمَ لِلرِّجَالِ، قُلْتُ: فَمَا كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: تَمْرًا "حشرج بن نباتہ اشجعی اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھ عورتوں میں سے چھٹی کے طور پر جہاد کے لیے گئیں۔ جب یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے ان کی طرف کسی کو بھیجا، اور فرمایا: ”کس کی اجازت سے تم نکلی ہو؟“ اور میں نے آپ ﷺ میں غصے کے آثار دیکھے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم اس لیے نکلی ہیں کہ ہمارے پاس دوا ہے جس سے ہم زخمیوں کا علاج کرتی ہیں، تیر پکڑاتی ہیں، ستو پلاتی ہیں، اون کاتتی ہیں اور اللہ کی راہ میں مدد کرتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھہری رہو۔“ پھر جب اللہ نے آپ ﷺ کے لیے خیبر فتح کر دیا تو آپ ﷺ نے ہمیں بھی اسی طرح حصہ دیا جیسے مردوں کو دیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: وہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: کھجور۔