المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم ورقة بنت عبد الله بن الحارث الأنصارية باب: سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث انصاریہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُمَيْعٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا وَيُسِمِّيهَا الشَّهِيدَةَ، وَكَانَتْ قَدْ جَمَعَتِ الْقُرْآنَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ غَزَا بَدْرًا قَالَتْ لَهُ: " تَأْذَنُ لِي فَأَخْرُجَ مَعَكَ أُدَاوِي جَرْحَاكُمْ، وَأُمَرِّضَ مَرْضَاكُمْ لَعَلَّ اللهَ يَهْدِي لِي شَهَادَةً، قَالَ: إِنَّ اللهَ يَهْدِي لَكِ شَهَادَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا، وَكَانَ لَهَا مُؤَذِّنٌ، وَكَانَتْ تَؤُمُّ أَهْلَ دَارِهَا حَتَّى عَدَا عَلَيْهَا جَارِيَةٌ، وَغُلَامٌ لَهَا كَانَتْ دَبَرَتْهُمَا فَقَتَلَاهَا فِي إِمَارَةِ عُمَرَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أُمَّ وَرَقَةَ قَدْ قَتَلَهَا غُلَامُهَا وَجَارِيَتُهَا فَقَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ: إِنَّ أُمَّ وَرَقَةَ عَدَا عَلَيْهَا غُلَامُهَا، وَجَارِيَتُهَا فَقَتَلَاهَا، وَإِنَّهُمَا هَرَبَا، فَأُتِيَ بِهِمَا، فَصَلَبَهُمَا، فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبَيْنِ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ عُمَرُ: صَدَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: انْطَلِقُوا نَزُورُ الشَّهِيدَةَ "سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، اور رسول اللہ ﷺ ان سے ملاقات کے لیے جایا کرتے تھے اور انہیں ”شہیدہ“ کہا کرتے تھے، اور انہوں نے قرآن جمع کر رکھا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ بدر کے لیے روانہ ہوئے تو انہوں نے آپ ﷺ سے کہا: مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپ کے ساتھ نکلوں، تمہارے زخمیوں کا علاج کروں اور تمہارے بیماروں کی تیمارداری کروں، شاید اللہ مجھے شہادت نصیب کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہیں شہادت ضرور نصیب کرے گا۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کریں، اور ان کا ایک مؤذن بھی تھا، وہ اپنے گھر والوں کی امامت کیا کرتی تھیں، یہاں تک کہ ان کے ایک باندی اور غلام نے، جنہیں انہوں نے مدبر بنایا تھا، ان پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا، اور یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوا۔ عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا کہ ام ورقہ کو ان کے غلام اور باندی نے قتل کر دیا ہے، تو وہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ام ورقہ پر ان کے غلام اور باندی نے حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا، اور وہ دونوں فرار ہو گئے۔ چنانچہ وہ دونوں پکڑے گئے اور انہیں سولی پر چڑھا دیا گیا، اور وہ مدینہ میں سولی چڑھائے جانے والے پہلے دو افراد تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا تھا، آپ ﷺ کہا کرتے تھے: چلو، ہم شہیدہ سے ملنے چلیں۔