المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم حرام بنت ملحان الأنصارية خالة أنس بن مالك امرأة عبادة بن الصامت وهي الرميصاء باب: سیدہ ام حرام بنت ملحان انصاریہ رضی اللہ عنہا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجہ، وہی رمیصاء ہیں
حدیث نمبر: 21786
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، قَالَا: ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ هِلَالِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي ثَابِتٍ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ، حَدَّثَنِي، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ، قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُزَاةَ الْبَحْرِ، فَقَالَ: «لِلْمَائِدِ أَجْرُ شَهِيدٍ، وَلِلْغَرِيقِ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «اللهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ» ، فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ، فَلَمَّا خَرَجَتْ رَكِبَتْ دَابَّةً فَسَقَطَتْ فَمَاتَتْ "ترجمہ
… ابوثابت یعلیٰ بن شداد، ام حرام رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سمندر کے غزوے کا ذکر کیا اور فرمایا: ”سمندر میں چکر کھانے والے کے لیے ایک شہید کا اجر ہے، اور ڈوب جانے والے کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے ان میں شامل کر دے۔“ چنانچہ وہ سمندر میں سوار ہوئیں، پھر جب وہ سمندر سے نکلیں تو ایک سواری پر سوار ہوئیں، تو گر پڑیں اور فوت ہو گئیں۔