❮
❯
حدیث نمبر: 21785
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ: أَنَّهُ أَتَى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، وَهُوَ فِي سَاحِلِ حِمْصٍ فِي بِنَاءٍ لَهُ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ أُمُّ حَرَامٍ، قَالَ عَمْرٌو: فَحَدَّثَتْنَا أُمُّ حَرَامٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ هَذَا الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا» ، فَقَالَتْ أُمُّ حَرَامٍ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا مِنْهُمْ؟ فَقَالَ: «أَنْتِ مِنْهُمْ» ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ» ، فَقَالَتْ أُمُّ حَرَامٍ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا مِنْهُمْ؟ قَالَ: لَا "
ترجمہ

عمرو بن اسود سے روایت ہے کہ وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، جو حمص کے ساحل پر اپنی ایک عمارت میں تھے، اور ان کے ساتھ ان کی اہلیہ ام حرام رضی اللہ عنہا تھیں۔ عمرو کہتے ہیں: ام حرام رضی اللہ عنہا نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میری امت کا پہلا لشکر جو اس سمندر میں جہاد کرے گا، وہ جنت کا مستحق ہو چکا۔“ ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم انہی میں سے ہو۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر میں جہاد کرے گا، اس کی بخشش ہو چکی۔“ ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21785
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 133، حدیث 323