المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم حرام بنت ملحان الأنصارية خالة أنس بن مالك امرأة عبادة بن الصامت وهي الرميصاء باب: سیدہ ام حرام بنت ملحان انصاریہ رضی اللہ عنہا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجہ، وہی رمیصاء ہیں
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ حَمْدَوَيْهِ الصَّفَّارُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا يَحْيَى بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ، قَالَتْ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِلٌ فِي بَيْتِي إِذِ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: «عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ» ، فَقُلْتُ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: اللهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ ثُمَّ نَامَ أَيْضًا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: «عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ» ، فَقُلْتُ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، فَغَزَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَلَمَّا قَفَلَتْ رَكَضَتْهَا بَغْلَةٌ لَهَا شَهْبَاءُ، فَمَاتَتْ "… سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں قیلولہ فرما رہے تھے کہ بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ پر میری امت کے کچھ لوگ پیش کیے گئے جو بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھ کر اس سمندر کی سطح پر سوار ہوں گے۔“ میں نے کہا: اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے بھی ان میں شامل کر دے۔“ پھر آپ ﷺ دوبارہ سو گئے، بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ پر میری امت کے کچھ لوگ پیش کیے گئے جو بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھ کر اس سمندر کی سطح پر سوار ہوں گے۔“ میں نے کہا: اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اگلوں میں سے ہو۔“ چنانچہ وہ اپنے شوہر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں گئیں، جب وہ واپس آ رہی تھیں تو ان کی سفید خچر نے انہیں لات ماری اور وہ فوت ہو گئیں۔