حدیث نمبر: 21781
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمًا فِي بَيْتِهَا، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: «عَجِبْتُ مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ» ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «أَنْتِ مِنْهُمْ» ، ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، وَأَقُولُ يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَيَقُولُ: «أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينِ» ، قَالَ: فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَخَرَجَ بِهَا إِلَى الْغَزْوِ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَتْ قُرِّبَتْ لَهَا دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا، فَوَقَعَتْ فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا "
ترجمہ

… سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے ام حرام رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے ان کے گھر میں قیلولہ کیا، پھر بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اپنی امت کے کچھ لوگوں پر تعجب ہوا جو بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھ کر سمندر میں سوار ہوں گے۔“ انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم انہی میں سے ہو۔“ پھر آپ ﷺ سو گئے، اور بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے، اور مجھ سے دو یا تین مرتبہ ایسا ہی فرمایا، اور میں کہتی رہی: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے۔ آپ ﷺ فرماتے: ”تم اگلوں میں سے ہو۔“ راوی کہتے ہیں: پھر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا، اور انہیں جہاد میں ساتھ لے گئے۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ واپس آئیں تو انہیں سوار ہونے کے لیے ایک سواری قریب لائی گئی، تو وہ گر پڑیں اور ان کی گردن ٹوٹ گئی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21781
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 131، حدیث 319