حدیث نمبر: 21740
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ يُحَدِّثُهُمْ وَقَدْ عَصَبَ بَطْنَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَقُلْتُ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ لِمَ عَصَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَهُ؟ فَقَالَ: مِنَ الْجُوعِ، فَذَهَبْتُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَصَبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ فَسَأَلْتُ بَعْضَ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: مِنَ الْجُوعِ، فَدَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى أُمِّي، فَقَالَ: هَلْ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَتْ: عِنْدِي كِسَرٌ مِنْ خُبْزٍ وَتَمَرَاتٌ فَإِنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَعْنَاهُ، وَإِنْ جَاءَ مَعَهُ أَحَدٌ قَلَّ عَنْهُمْ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: اذْهَبْ يَا أَنَسُ فَقُمْ قَرِيبًا مِنْ رَسُولِ اللهِ، فَإِذَا قَامَ فَادْعُهُ حَتَّى يَتَفَرَّقَ أَصْحَابُهُ وَمَنْ مَعَهُ حَتَّى إِذَا قَامَ عَلَى عَتَبَةِ بَابِهِ، فَقُلْ: أَبِي يَدْعُوكَ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، فَلَمَّا قُلْتُ أَبِي يَدْعُوكَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: يَا هَؤُلَاءِ تَعَالَوْا ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَشَدَّهَا وَأَقْبَلَ بِأَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا دَنَوْا مِنْ بَيْتِنَا أَرْسَلَ يَدِي، فَدَخَلْتُ وَأَنَا حَزِينٌ لِكَثْرَةِ مَنْ جَاءَ مَعَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ قَدْ قُلْتُ لِرَسُولِ اللهِ الَّذِي قُلْتَ لِي فَدَعَا أَصْحَابَهُ فَقَدْ جَاءَكَ بِهِمْ فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا أَرْسَلْتُ أَنَسًا يَدْعُوكَ وَحْدَكَ وَلَمْ يَكُ عِنْدِي مَا يُشْبِعُ مَنْ أَرَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْخُلْ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيُشْبِعُهُمْ بِمَا عِنْدَكَ» ، فَدَخَلَ مَعِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اجْمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَكُمْ، ثُمَّ قَرِّبُوهُ» ، وَجَلَسَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ بِالسُّدَّةِ، وَقَرَّبْتُ مَا كَانَ عِنْدَنَا مِنْ خُبْزٍ وَتَمْرٍ، فَجَعَلْنَاهُ عَلَى حَصِيرِنَا فَدَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: «أَدْخِلْ عَلَيَّ ثَمَانِيَةً» ، فَأَدْخَلْتُ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةً وَجَعَلَ كَفَّهُ فَوْقَ الطَّعَامِ، فَقَالَ: «كُلُوا وَسَمُّوا اللهَ» ، فَأَكَلُوا مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَدْخَلْتُ ثَمَانِيَةً، وَقَامَ الْأَوَّلُونَ فَفَعَلْتُ، فَدَخَلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَدْخَلْتُ ثَمَانِيَةً، فَمَا زَالَ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى دَخَلَ ثَمَانُونَ رَجُلًا كُلُّهُمْ يَأْكُلُ حَتَّى يَشْبَعَ، ثُمَّ دَعَانِي وَدَعَا أُمِّي وَأَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ: «كُلُوا» ، فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ فَقَالَ: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَيْنَ هَذَا مِنْ طَعَامِكِ حِينَ قَدَّمْتِيهِ» قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُهُمْ يَأْكُلُونَ لَقُلْتُ: مَا نَقَصَ مِنْ طَعَامِنَا شَيْءٌ "
ترجمہ

… (ابوطلحہ نے) کہا: یا رسول اللہ! میں نے تو انس کو صرف آپ کو اکیلے بلانے کے لیے بھیجا تھا، اور میرے پاس اتنا کھانا نہیں جو ان سب کو جنہیں میں دیکھ رہا ہوں سیر کر سکے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اندر چلو، اللہ عزوجل عنقریب انہیں تمہارے پاس جو کچھ ہے اس سے سیر کر دے گا۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ میرے ساتھ اندر تشریف لے گئے، اور فرمایا: ”جو کچھ تمہارے پاس ہے جمع کرو، پھر اسے پیش کرو۔“ جو لوگ باہر تھے وہ دہلیز پر بیٹھ گئے، اور میں نے جو کچھ ہمارے پاس روٹی اور کھجور تھی پیش کی، ہم نے اسے اپنی چٹائی پر رکھا، تو آپ ﷺ نے اس میں برکت کی دعا کی۔ پھر فرمایا: ”میرے پاس آٹھ آدمیوں کو لاؤ۔“ میں نے آٹھ آدمیوں کو اندر لایا، آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی کھانے کے اوپر رکھی اور فرمایا: ”کھاؤ اور اللہ کا نام لو۔“ چنانچہ وہ آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے کھاتے رہے یہاں تک کہ سیر ہو گئے۔ پھر مجھے حکم دیا تو میں نے آٹھ اور اندر لایا، پہلے والے اٹھ گئے، میں اسی طرح کرتا رہا، وہ اندر آتے اور کھا کر سیر ہو کر جاتے، یہاں تک کہ اسّی آدمی اندر آ گئے، سب کے سب کھا کر سیر ہوئے۔ پھر آپ ﷺ نے مجھے، میری ماں اور ابوطلحہ کو بلایا اور فرمایا: ”کھاؤ۔“ تو ہم نے کھایا یہاں تک کہ سیر ہو گئے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا: ”اے ام سلیم! تمہارا کھانا اس کے مقابلے میں کیا تھا جب تم نے اسے پیش کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! اگر میں انہیں کھاتے ہوئے نہ دیکھتی تو کہتی کہ ہمارے کھانے میں سے کچھ کم ہی نہیں ہوا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21740
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 109، حدیث 278