المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خبر قرص أم سليم وعكتها باب: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی روٹی اور ان کے تیل کے برتن کا واقعہ
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بُْن يُوسُفَ، أنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ: لَقَدْ سَمِعْتُ كَلَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكِ شَْيءٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهُمْ فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بَعْضَهَ بِبَعْضٍ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبْتُ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ: «قُومُوا» فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيدِيهِمْ حَتَّى جِْئتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاِس، وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا يُشْبِعُهُمْ، قَالَتْ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى بَلَغْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ» فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً فَآدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشْرَةٍ» فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشْرَةٍ» فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشْرَةٍ» فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشْرَةٍ» فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثَمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشْرَةٍ» فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ حَتَّى شَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونُ أَوْ ثَمَانُونَ… پھر انہوں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا، تو میں گیا اور رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں پایا جبکہ آپ ﷺ کے ساتھ لوگ بھی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”اٹھو۔“ چنانچہ سب چل پڑے، اور میں ان کے آگے آگے چلتا رہا یہاں تک کہ ابوطلحہ کے پاس پہنچا اور انہیں بتا دیا۔ ابوطلحہ نے کہا: اے ام سلیم! رسول اللہ ﷺ تو لوگوں کو لے کر آ گئے ہیں، اور ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں جو انہیں سیر کر سکے۔ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ چنانچہ ابوطلحہ چل پڑے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تک پہنچے، پھر رسول اللہ ﷺ اور ابوطلحہ ساتھ ساتھ اندر تشریف لائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلیم! جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ۔“ تو وہ وہی روٹی لائیں، رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو اسے ٹکڑے کیے گئے، اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک مشک نچوڑ کر اس میں سالن ڈالا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس پر جو اللہ نے چاہا دعا کی، پھر فرمایا: ”دس کو اجازت دو۔“ چنانچہ انہیں اجازت دی گئی، وہ کھا کر سیر ہو گئے اور نکل گئے۔ پھر فرمایا: ”دس کو اجازت دو۔“ وہ بھی کھا کر سیر ہوئے اور نکل گئے۔ اسی طرح باربار ہوتا رہا یہاں تک کہ لوگ ستر یا اسّی تھے، سب کھا کر سیر ہو گئے۔