❮
❯
حدیث نمبر: 21738
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بُْن يُوسُفَ، أنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ: لَقَدْ سَمِعْتُ كَلَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكِ شَْيءٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهُمْ فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بَعْضَهَ بِبَعْضٍ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبْتُ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ: «قُومُوا» فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيدِيهِمْ حَتَّى جِْئتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاِس، وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا يُشْبِعُهُمْ، قَالَتْ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى بَلَغْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ» فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً فَآدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشْرَةٍ» فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشْرَةٍ» فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشْرَةٍ» فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشْرَةٍ» فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثَمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشْرَةٍ» فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ حَتَّى شَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونُ أَوْ ثَمَانُونَ
ترجمہ

اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز میں بھوک کی کیفیت محسوس کی ہے، کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنی ایک اوڑھنی نکال کر اس میں روٹیوں کو لپیٹ دیا، پھر انہوں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا۔ میں گیا اور رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں پایا جبکہ آپ ﷺ کے ساتھ لوگ بھی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”اٹھو۔“ چنانچہ سب چل پڑے، اور میں ان کے آگے آگے چلتا رہا یہاں تک کہ ابوطلحہ کے پاس پہنچا اور انہیں بتا دیا۔ ابوطلحہ نے کہا: اے ام سلیم! رسول اللہ ﷺ تو لوگوں کو لے کر آ گئے ہیں، اور ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں جو انہیں سیر کر سکے۔ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ چنانچہ ابوطلحہ چل پڑے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تک پہنچے، پھر رسول اللہ ﷺ اور ابوطلحہ ساتھ ساتھ اندر تشریف لائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلیم! جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ۔“ تو وہ وہی روٹی لائیں، رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو اسے ٹکڑے کیے گئے، اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک مشک نچوڑ کر اس میں سالن ڈالا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس پر جو اللہ نے چاہا دعا کی، پھر فرمایا: ”دس کو اجازت دو۔“ چنانچہ انہیں اجازت دی گئی، وہ کھا کر سیر ہو گئے اور نکل گئے۔ پھر فرمایا: ”دس کو اجازت دو۔“ انہیں اجازت دی گئی، وہ بھی کھا کر سیر ہوئے اور نکل گئے۔ پھر فرمایا: ”دس کو اجازت دو۔“ انہیں اجازت دی گئی، وہ کھا کر سیر ہوئے اور نکل گئے۔ پھر فرمایا: ”دس کو اجازت دو۔“ انہیں اجازت دی گئی، وہ کھا کر سیر ہوئے اور نکل گئے۔ پھر فرمایا: ”دس کو اجازت دو۔“ یہاں تک کہ تمام لوگوں نے کھایا اور سیر ہو گئے، اور وہ لوگ ستر یا اسّی تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21738
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 107، حدیث 276