حدیث نمبر: 21682
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ أَيْمَنَ أُمُّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ مِنَ الْحَبَشَةِ، وَكَانَتْ وَصِيفَةً لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَكَانَتْ تَحْضُنُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَغِيرٌ فَأَعْتَقَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَنْكَحَهَا زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَتُوُفِّيَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةِ أَشْهُرٍ " هَكَذَا قَالَ الزُّهْرِيُّ وَرَوَى فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهَا عَاشَتْ بَعْدَ وَفَاةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
ترجمہ

زہری بیان کرتے ہیں: ام ایمن، اسامہ بن زید کی والدہ، حبشہ سے تھیں، اور عبداللہ بن عبدالمطلب کی باندی تھیں، اور نبی کریم ﷺ کو بچپن میں پالا کرتی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں آزاد کر دیا، پھر ان کا نکاح زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ ان کا انتقال نبی کریم ﷺ کے پانچ ماہ بعد ہوا۔ زہری نے اسی طرح بیان کیا ہے، جبکہ ایک اور روایت میں ہے کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد تک زندہ رہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21682
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 86، حدیث 220