حدیث نمبر: 2166
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا عَوْنُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ سَعْدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ قُرَيْعٍ، أَحَدُ بَنِي غَيْلَانَ بْنِ جَاوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ جَرَادَةَ أَحَدِ بَنِي غَيْلَانَ بْنِ جَاوَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِبِلٍ قَدْ وَسَمْتُها فِي أَنْفِها فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جُنَادَةُ مَا وَجَدْتُ فِيهَا عُضْوًا تَسِمُهُ إِلَّا فِي الْوَجْهِ، أَمَا إِنَّ أَمَامَكَ الْقِصَاصُ» فَقَالَ: أُمِرُّهَا إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «ائْتِنِي بِشَيْءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ وَسْمٌ» فَأَتَيْتُهُ بِابْنِ لَبُونٍ وَحِقَّةٍ فَوَضَعْتُ الْمِيسَمَ فِي الْعُنُقِ فَلَمْ يَزَلْ، يَقُولُ: «أَخِّرْ أَخِّرْ» حَتَّى بَلَغَ الْفَخِذَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سِمْ عَلَى بَرَكَةِ اللهِ» فَوَسَمْتُها فِي أَفْخَاذِها وَكَانَتْ صَدَقَتُهَا حِقَّتَانِ وَكَانَتْ تِسْعِينَ
ترجمہ

سیدنا جنادہ بن جرادہ رضی اللہ عنہ، جو بنو غیلان بن جاوہ میں سے تھے، کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس ایسے اونٹ لے کر آیا جن کی ناک پر میں نے داغ لگایا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے جنادہ! میں نے ان میں چہرے کے سوا کوئی ایسا عضو نہیں پایا جس پر تم داغ لگا سکو، خبردار! اس کا قصاص تمہارے سامنے ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں یہ معاملہ آپ کے سپرد کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس ایسی چیز لاؤ جس پر داغ نہ ہو۔“ چنانچہ میں ایک دو سالہ اور تین سالہ اونٹ لے آیا، تو میں نے گردن پر داغنے کا آلہ رکھا، آپ ﷺ فرماتے رہے: ”پیچھے، پیچھے“، یہاں تک کہ وہ ران تک پہنچ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی برکت سے داغ لگاؤ۔“ چنانچہ میں نے اس کی رانوں پر داغ لگایا، اور اس کی زکوٰۃ دو حقے تھی، اور وہ نوے اونٹ تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2166
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 283، حدیث 2179