المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
نسيكة أم عمرو بن جلاس باب: سیدہ نسیکہ رضی اللہ عنہا، عمرو بن جلاس کی والدہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَمْعَانَ، عَنْ نَسِيكَةَ أُمِّ عَمْرِو بْنِ جُلَاسٍ، قَالَتْ: إِنِّي لَعِنْدَ عَائِشَةَ " وَقَدْ ذَبَحَتْ شَاةً لَهَا، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدَهِ عُصَيَّةٌ، فَأَلْقَاهَا ثُمَّ هَوَى إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ هَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، فَانْبَطَحَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: هَلْ مِنْ غَدَاءٍ؟ فَأَتَيْنَاهُ بِصَحْفَةٍ فِيهَا خُبْزُ شَعِيرٍ، وَفِيهَا كِسْرَةٌ وَقَطْعِهٌ مِنَ الْكَرِشِ، وَفِيهَا الذِّرَاعُ، قَالَ: فَأَخَذْتُ قِطْعَةً مِنَ الْكَرِشِ، وَإِنَّهَا لَتَنْهَشُهَا إِذْ قَالَتْ: ذَبَحْنَا شَاةً الْيَوْمَ فَمَا أَمْسَكْنَا غَيْرَ هَذَا، قَالَتْ: يَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا بَلْ كُلُّهَا أُمْسِكَتْ إِلَّا هَذَا»حبیبہ بنت سمعان رحمہا اللہ سیدہ نسیکہ ام عمرو بن جلاس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی اور انہوں نے اپنی ایک بکری ذبح کی ہوئی تھی، تو رسول اللہ ﷺ ہاتھ میں ایک چھوٹی چھڑی لیے اندر تشریف لائے، اسے پھینک دیا، پھر مسجد کی طرف گئے، اس میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر اپنے بستر کی طرف گئے اور اس پر لیٹ گئے، پھر فرمایا: ”کیا کچھ ناشتہ ہے؟“ تو ہم آپ ﷺ کے پاس جو کی روٹی کا ایک تھال لائے، جس میں ایک ٹکڑا اور اوجھڑی کا ایک ٹکڑا تھا، اور اس میں دستی کا گوشت بھی تھا، راوی کہتے ہیں: میں نے اوجھڑی کا ایک ٹکڑا لیا، اور وہ اسے چبا رہی تھیں کہ انہوں نے کہا: ہم نے آج ایک بکری ذبح کی تھی، مگر ہم نے اس کے سوا کچھ نہیں رکھا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ”نہیں، بلکہ اس کے سوا سب کچھ (ثواب میں) باقی رہ گیا۔“