حدیث نمبر: 21544
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لِنُعْمَى بِنْتِ جَعْفَرٍ: مَا لِي " أَرَى أَجْسَامَ بَنِي جَعْفَرٍ أَنْضَاءَ أَبِهِمْ حَاجَةٌ؟ قَالَتْ: لَا وَلَكِنَّهُمْ تُسْرِعُ إِلَيْهِمُ الْعَيْنُ أَفَأَرْقِيهِمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ كَلَامًا لَا بَأْسَ بِهِ فَقَالَ: ارْقِيهِمْ "
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نعمیٰ بنت جعفر رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”کیا بات ہے، میں جعفر کے بچوں کے جسم کمزور اور لاغر دیکھ رہا ہوں، کیا انہیں کوئی ضرورت ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، لیکن انہیں جلدی نظر لگ جاتی ہے، کیا میں انہیں دم کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو انہوں نے آپ ﷺ کے سامنے وہ کلمات پیش کیے جن میں کوئی حرج نہ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں دم کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21544
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 43، حدیث 81