المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ليلى بنت أبي حثمة بن حذيفة بن غانم بن عبد الله بن عبيد بن عويج بن عدي بن كعب أم عبد الله بن عامر بن ربيعة من المهاجرات باب: سیدہ لیلیٰ بنت ابی حثمہ بن حذیفہ بن غانم بن عبداللہ بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب رضی اللہ عنہا، عبداللہ بن عامر بن ربیعہ کی والدہ، مہاجر خواتین میں سے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أُمِّهِ لَيْلَى، قَالَتْ: " كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَلَيْنَا فِي إِسْلَامِنَا، فَلَمَّا تَهَيَّأْنَا لِلْخُرُوجِ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، جَاءَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَنَا عَلَى بَعِيرِي أُرِيدُ أَنْ أَتَوَجَّهَ فَقَالَ: أَيْنَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللهِ؟ فَقُلْتُ: آذَيْتُمُونَا فِي دِينِنَا، فَنَذْهَبُ فِي أَرْضِ اللهِ، حَيْثُ لَا نُؤْذَى فِي عِبَادَةِ اللهِ، قَالَ: صَحِبَكُمُ اللهُ، ثُمَّ ذَهَبَ، فَجَاءَنِي زَوْجِي عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُهُ مِنْ رِقَّةِ عُمَرَ، فَقَالَ: تُرَجِّينَ أَنْ يُسْلِمَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: وَاللهِ لَا يُسْلِمُ حَتَّى يُسْلِمَ حِمَارُ الْخَطَّابِسیدہ لیلیٰ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: عمر بن خطاب ہمارے اسلام لانے پر ہم پر سب سے زیادہ سختی کرنے والوں میں سے تھے، پھر جب ہم حبشہ کی سرزمین کی طرف نکلنے کے لیے تیار ہوئے تو عمر بن خطاب میرے پاس آئے جبکہ میں اپنے اونٹ پر سوار روانہ ہونے والی تھی، انہوں نے پوچھا: اے ام عبداللہ! کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: تم نے ہمیں ہمارے دین کے معاملے میں تکلیف دی ہے، اس لیے ہم اللہ کی زمین میں کہیں جا رہے ہیں جہاں ہمیں اللہ کی عبادت میں تکلیف نہ دی جائے۔ انہوں نے کہا: اللہ تمہارے ساتھ رہے، پھر چلے گئے۔ میرے شوہر عامر بن ربیعہ آئے تو میں نے انہیں عمر کی اس نرمی کے بارے میں بتایا جو میں نے دیکھی، تو انہوں نے کہا: کیا تمہیں امید ہے کہ وہ مسلمان ہو جائیں گے؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوں گے جب تک خطاب کا گدھا مسلمان نہ ہو جائے۔