المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روى عبد الله بن الحارث بن نوفل، عن أم الفضل بنت الحارث باب: عبداللہ بن حارث بن نوفل نے جو سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت کی
حدیث نمبر: 21495
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، أنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، قَالَتْ: بَيْنَا أَنَا قَاعِدَةٌ، عِنْدَ رَأْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مَرِيضٌ فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ؟» ، فَقُلْتُ: أَخْشَى عَلَيْكَ فَلَا نَدْرِي مَا نَلْقَى بَعْدَكَ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: «أَنْتُمُ الْمُسْتَضْعَفُونَ بَعْدِي»ترجمہ
سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے سرہانے بیٹھی تھی جبکہ آپ ﷺ بیمار تھے، تو میں رو پڑی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا رلا رہا ہے؟“ میں نے عرض کیا: مجھے آپ کی فکر ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ آپ کے بعد لوگوں کی طرف سے ہمیں کیا پیش آئے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میرے بعد کمزور سمجھے جانے والے (مستضعف) ہو گے۔“