المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
فريعة بنت مالك بن سنان الخدرية، أخت أبي سعيد باب: سیدہ فریعہ بنت مالک بن سنان خدریہ رضی اللہ عنہا، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن
حدیث نمبر: 21455
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ كَعْبٍ، عَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ، قَالَتْ: خَرَجَ زَوْجِي فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَنَا، فَأَدْرَكَهُمْ بِطَرَفِ الْقُدُومِ فَقَتَلُوهُ، فَأَتَانِي نَعْيُهُ وَأَنَا فِي دَارٍ شَاسِعَةٍ مِنْ دُورِ أَهْلِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ آتِيَ أَهْلِي، فَأَذِنَ لِي، ثُمَّ قَالَ: «لَا حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ»ترجمہ
سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرا شوہر ہمارے کچھ غیر عرب غلاموں کی تلاش میں نکلا، اس نے انہیں طرف القدوم میں جا لیا تو انہوں نے اسے قتل کر دیا، مجھے اس کی وفات کی خبر ملی جبکہ میں اپنے گھر والوں کے گھروں سے دور ایک گھر میں تھی، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور اپنے گھر والوں کے پاس جانے کی اجازت مانگی، آپ ﷺ نے اجازت دے دی، پھر فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ عدت کی مدت پوری ہو جائے۔“