حدیث نمبر: 21453
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ، عَنِ الْفُرَيْعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ، أُخْتِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ زَوْجَهَا بَكَّارَ أَكْرَى أُعْلُوجًا لِيَعْمَلُوا لَهُ، فَقَتَلُوهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ فِي مَسْكَنٍ لَهُ، وَلَا يَجْرِي عَلِيَّ مِنْهُ رِزْقٌ، فَأَنْتَقِلُ إِلَى أَهْلِي وَيَتَامَايَ وَأَقُومُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «افْعَلِي» ، ثُمَّ بَدَا لَهُ، فَقَالَ: «اعْتَدِّي حَيْثُ بَلَغَكِ الْخَبَرُ»
ترجمہ

سیدہ فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: … انہوں نے اسے قتل کر دیا، تو میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی اور عرض کیا: میں ایسے گھر میں نہیں ہوں جو اس کا ہو، اور نہ مجھے اس کی طرف سے کوئی خرچہ ملتا ہے، تو میں اپنے گھر والوں اور اپنے یتیموں کے پاس منتقل ہو جاؤں اور ان کی کفالت کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا کر لو۔“ پھر آپ ﷺ نے دوبارہ سوچا اور فرمایا: ”جہاں تمہیں خبر ملی ہے وہیں عدت گزارو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21453
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 443، حدیث 1085