المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
فريعة بنت مالك بن سنان الخدرية، أخت أبي سعيد باب: سیدہ فریعہ بنت مالک بن سنان خدریہ رضی اللہ عنہا، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ، عَنِ الْفُرَيْعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ، أُخْتِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ زَوْجَهَا بَكَّارَ أَكْرَى أُعْلُوجًا لِيَعْمَلُوا لَهُ، فَقَتَلُوهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ فِي مَسْكَنٍ لَهُ، وَلَا يَجْرِي عَلِيَّ مِنْهُ رِزْقٌ، فَأَنْتَقِلُ إِلَى أَهْلِي وَيَتَامَايَ وَأَقُومُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «افْعَلِي» ، ثُمَّ بَدَا لَهُ، فَقَالَ: «اعْتَدِّي حَيْثُ بَلَغَكِ الْخَبَرُ»سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ رحمہ اللہ اپنی پھوپھی زینب بنت کعب سے، وہ سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا، ابوسعید خدری کی بہن، سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے شوہر بکار نے کچھ غیر عرب مزدور اپنے لیے کام کرنے کی خاطر اجرت پر رکھے، تو انہوں نے اسے قتل کر دیا، تو میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی اور عرض کیا: میں ایسے گھر میں نہیں ہوں جو اس کا ہو، اور نہ مجھے اس کی طرف سے کوئی خرچہ ملتا ہے، تو میں اپنے گھر والوں اور اپنے یتیموں کے پاس منتقل ہو جاؤں اور ان کی کفالت کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا کر لو۔“ پھر آپ ﷺ نے دوبارہ سوچا اور فرمایا: ”جہاں تمہیں خبر ملی ہے وہیں عدت گزارو۔“