المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
فريعة بنت مالك بن سنان الخدرية، أخت أبي سعيد باب: سیدہ فریعہ بنت مالک بن سنان خدریہ رضی اللہ عنہا، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ فُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكٍ، أُخْتَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَخْبَرَتْهَا: أَنَّ زَوْجًا لَهَا خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى سِتَّةِ أَمْيَالٍ عِنْدَ طَرَفِ جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ الْقُدُومُ، تَعَادَى عَلَيْهِ اللُّصُوصُ فَقَتَلُوهُ، وَكَانَتْ فُرَيْعَةُ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فِي مَسْكَنٍ لَمْ يَكُنْ لِبَعْلِها، إِنَّمَا كَانَ سُكْنَى، فَجَاءَ إِخْوَتُهُمْ فِيهِمْ أَبُو سَعِيدٍ، فَقَالُوا: لَيْسَ بِأَيْدِينَا سَعَةً فَنُعْطِيكِ ونُمْسِكُ، وَلَا يُصْلِحُنَا إِلَّا أَنْ نَكُونَ جَمِيعًا، ونَخْشَى عَلَيْكِ الْوَحْشَةَ، فَاسْأَلِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ تَكُونَ عِنْدَهُمْ، فَقَالَ: «افْعَلِي إِنْ شِئْتِ» ، فَأَدْبَرَتْ حَتَّى إِذَا كَانَتْ فِي الْحُجْرَةِ، قَالَ: «تَعَالَيْ عُودِي لِمَا قُلْتِ» ، فَعَادَتْ، فَقَالَ: «امْكُثِي فِي مَسْكَنِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ»سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن، بیان کرتی ہیں کہ ان کے شوہر (گھر سے) نکلے، یہاں تک کہ جب وہ مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر قدوم نامی پہاڑ کے کنارے پر تھے تو چوروں نے ان پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا۔ سیدہ فریعہ رضی اللہ عنہا بنو حارث بن خزرج میں ایک ایسے مکان میں رہتی تھیں جو ان کے شوہر کی ملکیت نہیں تھا، بلکہ صرف رہائش کے لیے تھا۔ تو ان کے بھائی آئے جن میں ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی تھے، اور انہوں نے کہا: ہمارے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ تمہیں (الگ خرچ) بھی دیں اور (اپنا گھر بھی) سنبھالیں، ہمارے لیے یہی بہتر ہے کہ ہم سب اکٹھے رہیں، اور ہمیں تمہاری تنہائی کا خدشہ ہے، اس لیے نبی کریم ﷺ سے پوچھ لو۔ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور ان کے ہاں رہنے کی اجازت مانگی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو ایسا کر لو۔“ پھر وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگیں، یہاں تک کہ جب وہ حجرے میں پہنچیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آؤ، جو تم نے کہا تھا اسے دوبارہ دہراؤ۔“ تو انہوں نے دوبارہ بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر میں ٹھہری رہو یہاں تک کہ عدت کی مدت پوری ہو جائے۔“