حدیث نمبر: 21424
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ دَخَلَ عَلَيْهَا فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ، فَوَجَدَ عِنْدِي رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ زَوْجِي قَدْ فَرَّا إِلَيَّ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْتُلَهُمَا، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ أَغْلَقْتُ عَلَيْهِمَا بَابِي، ثُمَّ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ بِأَعْلَى مَكَّةَ، فَلَمَّا رَآنِي رَحَّبَ بِي، وَقَالَ: «مَا جَاءَ بِكِ يَا أُمَّ هانِي؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلانِ مِنْ أَهْلِ زَوْجِي احْتَمَا بِي، فَوَجَدَهُمَا عَلِيٌّ عِنْدِي فَزَعَمَ أَنَّهُ قَاتِلُهُمَا، فَجِئْتُكَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ» ، ثُمَّ سَكَبْتُ لَهُ مَاءً فَاغْتَسَلَ فَسَتَرَتْهُ فَاطِمَةُ بِنْتُهُ بِثَوْبٍ، فَلَمَّا اغْتَسَلَ أَخَذَهُ فَأَلْقَى بِهِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِ سَجَدَاتٍ، وَذَلِكَ ضُحًى
ترجمہ

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: … (علی نے) انہیں قتل کرنے کا ارادہ کیا تو جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے اپنا دروازہ ان پر بند کر دیا، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی جبکہ آپ ﷺ مکہ کی بلندی پر تھے، جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو خوش آمدید کہا اور فرمایا: ”اے ام ہانی! تمہیں کیا لے کر آیا؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے شوہر کے خاندان کے دو آدمی میری پناہ میں آئے، تو علی نے انہیں میرے پاس پا کر انہیں قتل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، اسی سلسلے میں آپ ﷺ کے پاس آئی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جسے تم نے پناہ دی ہم نے بھی اسے پناہ دی، اور جسے تم نے امان دی ہم نے بھی اسے امان دی۔“ پھر میں نے آپ ﷺ کے لیے پانی ڈالا تو آپ ﷺ نے غسل فرمایا، آپ ﷺ کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کپڑے سے پردہ کیا، پھر جب آپ ﷺ غسل سے فارغ ہوئے تو کپڑا اتار کر پھینک دیا، پھر کھڑے ہو کر آٹھ سجدوں (رکعتوں) کی نماز پڑھی اور یہ چاشت کا وقت تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21424
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 431، حدیث 1056