المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو مرة مولى عقيل، عن أم هانئ باب: ابومرہ، عقیل کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21390
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ومَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا جَاءَتْ بِرَجُلَيْنِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ يَوْمَ فَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا عَلِيٌّ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا أُمَّ هَانِئٍ؟ لأَقْتُلَنَّهُما، قَالَتْ: فَأَغْلَقْتُ عَلَيْهِمَا، ثُمَّ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَابْنَتُهُ فَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ أَخَذَ الثَّوْبَ فَالْتَحَفَهُ، ثُمَّ صَلَّى الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: «مَا لَكِ يَا أُمَّ هَانِئٍ؟» ، قُلْتُ: إِنِّي أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي، فَجَاءَ عَلِيٌّ يُرِيدُ أَنْ يَقْتُلَهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَمَّنَا مَنْ أَمَّنْتِ، وَأَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ»ترجمہ
… تو میں نے آپ ﷺ کو غسل کرتے پایا اور آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کو کپڑے سے پردہ کیے ہوئے تھیں، آپ ﷺ نے غسل کیا، پھر کپڑا لے کر اسے اوڑھ لیا، پھر چاشت کی نماز آٹھ رکعتیں پڑھی، پھر فرمایا: ”اے ام ہانی! تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: میں نے اپنے سسرالی رشتے داروں میں سے دو آدمیوں کو پناہ دی ہے، تو علی آئے، وہ انہیں قتل کرنا چاہتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم نے بھی اسے امان دے دی جسے تم نے امان دی، اور اسے پناہ دے دی جسے تم نے پناہ دی۔“