المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو مرة مولى عقيل، عن أم هانئ باب: ابومرہ، عقیل کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21389
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَحْمَرِ النَّاقِدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلٍ، أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَى مَكَّةَ، جَاءَ إِلَيَّ رَجُلَانِ مِنْ أَحْمَائِي مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ هُبَيْرَةَ بْنِ أَبِي وَهْبٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: لأَقْتُلَنَّهُما، فَأَغْلَقْتُ عَلَيْهِمَا بَابِي، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى مَكَّةَ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ فِي جَفْنَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، فَلَمَّا اغْتَسَلَ أَخَذَ ثَوْبَهُ فَتَوَشَّحَ بِهِ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي الضُّحَى، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ، قَالَ: «مَرْحَبًا وَأَهْلًا يَا أُمَّ هانِي، مَا جَاءَ بِكِ؟» فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَ الرَّجُلَيْنِ، وَخَبَرَ عَلِيٍّ، فَقَالَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ»ترجمہ
… تو میں نے آپ ﷺ کو ایک ایسے برتن میں غسل کرتے پایا جس میں آٹے کے نشان تھے، اور آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا انہیں کپڑے سے پردہ کیے ہوئے تھیں، جب آپ ﷺ نے غسل کر لیا تو اپنا کپڑا لے کر اسے اوڑھ لیا، پھر چاشت کے وقت آٹھ رکعتیں پڑھیں، پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”خوش آمدید، اے ام ہانی! تمہیں کیا لایا؟“ تو میں نے آپ کو ان دونوں آدمیوں اور علی کی بات بتائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم نے بھی اسے پناہ دے دی جسے تم نے پناہ دی۔“