المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جهجاه الغفاري باب: سیدنا جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ سَلْمَانَ الْأَغَرُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ جَهْجَاهٍ الْغِفَارِيِّ، أَنَّهُ قَدِمَ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ يُرِيدُونَ الْإِسْلَامَ، فَحَضَرُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: «يَأْخُذُ كُلُّ رَجُلٍ بِيَدِ جَلِيسِهِ» ، فَلَمْ يَبْقَ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِي، وَكُنْتُ عَظِيمًا طَوِيلًا لَا يُقَدَّمُ عَلَيَّ أَحَدٌ، فَذَهَبَ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَحَلَبَ لِي عَنْزًا، فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا حَتَّى حَلَبَ لِي سَبْعَ أَعْنُزٍ، فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا، ثُمَّ أُتِيتُ بِصَنِيعِ بُرْمَةٍ، فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا، وَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ: أجَاعَ اللهُ مَنْ أجَاعَ رَسُولَ اللهِ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، قَالَ: «مَهْ يَا أُمَّ أَيْمَنَ أَكَلَ رِزْقَهُ، وَرِزْقُنَا عَلَى اللهِ» فَأَصْبَحُوا فَغَدَوْا، فَاجْتَمَعَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُخْبِرُ بِمَا أُتِيَ إِلَيْهِ، فَقَالَ جَهْجَاهٌ: حُلِبَتْ لِي سَبْعُ أَعْنُزٍ، فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا وَصَنِيعُ بُرْمَةٍ فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا، فَصَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، فَقَالَ: «لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِيَدِ جَلِيسِهِ» ، فَلَمْ يَبْقَ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِي، وَكُنْتُ عَظِيمًا طَوِيلًا لَا يُقَدَّمُ عَلَيَّ أَحَدٌ فَذَهَبَ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَحَلَبَ لِي عَنْزًا، فَرُوِّيتُ وَشَبِعْتُ، فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَيْسَ هَذَا ضَيْفَنَا؟ قَالَ: «بَلَى» فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ أَكَلَ فِي مِعَى مُؤْمِنٍ اللَّيْلَةَ وَأَكَلَ قَبْلَ ذَلِكَ فِي مِعَى كَافِرٍ، الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ، وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ»سیدنا جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ اسلام لانے کی خواہش میں آئے، اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز میں حاضر ہوئے۔ جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”ہر آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کا ہاتھ پکڑ لے۔“ تو مسجد میں رسول اللہ ﷺ اور میرے سوا کوئی نہ بچا، اور میں قد آور، لمبا تھا کہ کوئی مجھ پر سبقت نہیں لے سکتا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ مجھے اپنے گھر لے گئے، آپ ﷺ نے میرے لیے ایک بکری کا دودھ دوہا، میں نے وہ پی لیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے سات بکریوں کا دودھ دوہا، میں وہ سب پی گیا، پھر میرے پاس ایک ہانڈی کا کھانا لایا گیا، وہ بھی میں کھا گیا۔ تو ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ اس شخص کو بھوکا رکھے جس نے آج رات رسول اللہ ﷺ کو بھوکا رکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بس کرو، اے ام ایمن! اس نے اپنا رزق کھایا، اور ہمارا رزق اللہ کے ذمے ہے۔“ صبح ہوئی تو لوگ اکٹھے ہوئے، آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ جمع ہوئے، تو ہر آدمی بتانے لگا کہ اسے کیا مہمان نوازی دی گئی، تو جہجاہ نے کہا: میرے لیے سات بکریوں کا دودھ دوہا گیا، وہ میں پی گیا، اور ایک ہانڈی کا کھانا بھی آیا، وہ بھی میں کھا گیا۔
پھر وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز میں شریک ہوئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کا ہاتھ پکڑ لے۔“ تو مسجد میں رسول اللہ ﷺ اور میرے سوا کوئی نہ بچا، اور میں قد آور، لمبا تھا کہ کوئی مجھ پر سبقت نہیں لے سکتا تھا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ مجھے اپنے گھر لے گئے، آپ ﷺ نے میرے لیے ایک بکری کا دودھ دوہا، تو میں سیراب اور شکم سیر ہو گیا۔ تو ام ایمن رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ ہمارا مہمان نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ آج رات ایک مومن کی آنت میں کھا رہا ہے، جبکہ اس سے پہلے یہ ایک کافر کی آنت میں کھاتا تھا، کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے، جبکہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے۔“