المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف، عن فاطمة باب: ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف کی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ، طَلَّقَهَا ألْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ، فَأَرْسَلَ وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَتَسَخَّطَتْهُ فَقَالَ: وَاللهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ» فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ: «تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ فَإِذَا حَلَلْتِ فائْتِينِي» فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ» قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ ثُمَّ قَالَ: «انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ» فَجَعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا، وَاغْتَبَطْتُ بِهِ… اس کے شوہر نے اسے حتمی طلاق دے دی جبکہ وہ خود غائب تھا، تو اس نے اپنا وکیل کچھ جو دے کر بھیجا، تو وہ اس پر ناراض ہوئیں، اس نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا ہم پر کچھ حق نہیں، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے یہ بات ذکر کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے انہیں ام شریک کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”وہ ایسی عورت ہے جس کے ہاں میرے صحابہ آتے جاتے رہتے ہیں، تم ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو، کیونکہ وہ ایک نابینا آدمی ہے، تم اپنے کپڑے اتار سکتی ہو، اور جب حلال ہو جاؤ تو مجھے بتانا۔“ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب میں حلال ہوئی تو میں نے آپ ﷺ سے ذکر کیا کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم بن حذیفہ نے مجھے پیغامِ نکاح بھیجا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک ابوجہم کا تعلق ہے تو وہ اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے نہیں اتارتا، اور جہاں تک معاویہ کا تعلق ہے تو وہ نادار ہے، اس کے پاس مال نہیں، تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“ فاطمہ کہتی ہیں: مجھے یہ ناپسند تھا، پھر آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا: ”اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“ تو اللہ نے اس میں میرے لیے خیر رکھ دی اور مجھے اس پر رشک آنے لگا۔