حدیث نمبر: 21277
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، «أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ أَبِي عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا فَأَمَرَهَا، زَعَمَتْ أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى» ، «فَأَبَى مَرْوَانُ إِلَّا أَنْ يَتَّهِمَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا»
ترجمہ

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ ”وہ ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ کے نکاح میں تھیں، تو اس نے انہیں تیسری اور آخری طلاق دے دی، تو ان کا خیال ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے اپنے گھر سے نکلنے کے بارے میں مسئلہ پوچھا، تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا، ان کا خیال ہے کہ وہ ابن ام مکتوم نابینا کے ہاں منتقل ہو جائیں۔“ ”لیکن مروان اس بات پر بضد رہا کہ وہ مطلقہ کے اپنے گھر سے نکلنے کے بارے میں فاطمہ کی حدیث کو مشکوک قرار دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21277
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 366، حدیث 909