المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
فاطمة بنت حمزة بن عبد المطلب تكنى أم الفضل " ويقال اسمها أمامة ويقال عمارة " باب: سیدہ فاطمہ بنت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا، جن کی کنیت ام فضل تھی؛ بعض کے نزدیک ان کا نام امامہ تھا، اور بعض کے نزدیک عمارہ
حدیث نمبر: 21250
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَمِّي أَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، أَنَّهُ قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا ابْنَةُ حَمْزَةَ مِنِّي؟ هِيَ أُخْتِي لِأُمِّي، أَعْتَقَتْ رَجُلًا فَمَاتَ فَقَسِّمَ مِيرَاثُهُ بَيْنَهَا، وَبَيْنَهَا» ، قُلْتُ: عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن شداد سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی میری کیا لگتی ہے؟ وہ میری ماں کی طرف سے بہن ہے، اس نے ایک آدمی کو آزاد کیا، وہ فوت ہو گیا تو اس کی میراث اس اور اس کی بیٹی کے درمیان تقسیم کی گئی۔“ میں نے پوچھا: کیا یہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کی بات ہے؟ انہوں نے کہا: ”ہاں، رسول اللہ ﷺ کے زمانے کی بات ہے۔“