المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
شموس بنت النعمان بن عامر بن مجمع الأنصارية باب: سیدہ شموس بنت نعمان بن عامر بن مجمع انصاریہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي سُوَيْدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنِ الشَّمُوسِ بِنْتِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ: نَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ، وَنَزَلَ وَأَسَّسَ هَذَا الْمَسْجِدَ، مَسْجِدَ قِبَاءَ، فَرَأَيْتُهُ يَأْخُذُ الْحَجَرَ - أَوِ الصَّخْرَةَ - حَتَّى يَصْهَرَهُ الْحَجَرُ، وَأَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ التُّرَابِ عَلَى بَطْنِهِ وَسُرَّتِهِ، فَيَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِهِ وَيَقُولُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطِنِي أَكْفِكَ، فَيَقُولُ: «لَا خُذْ حَجَرًا مِثْلَهُ» حَتَّى أَسَّسَهُ وَيَقُولُ: «إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ هُوَ يَؤُمُّ الْكَعْبَةَ» قَالَتْ: " فَكَانَ يُقَالُ: إِنَّهُ أَقُومُ مَسْجِدٍ قِبْلَةً "سیدہ شموس بنت نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، پڑاؤ کیا اور اس مسجد، یعنی مسجدِ قباء، کی بنیاد رکھی تو میں آپ ﷺ کو دیکھ رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ پتھر یا چٹان اٹھاتے یہاں تک کہ پتھر (کا بوجھ) آپ ﷺ کو جھکا دیتا، اور میں آپ ﷺ کے پیٹ اور ناف پر مٹی کی سفیدی دیکھتی تھی۔ آپ ﷺ کے صحابہ میں سے کوئی آدمی آتا اور کہتا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یا رسول اللہ! مجھے دیجیے، میں آپ ﷺ کی کفایت کر دوں۔ تو آپ ﷺ فرماتے: ”نہیں، اسی جیسا ایک اور پتھر لے لو“، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے بنیاد مکمل کر لی، اور فرماتے: ”جبریل علیہ السلام ہی کعبہ کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں۔“ چنانچہ کہا جاتا تھا کہ یہ قبلہ رخ میں سب سے درست مسجد ہے۔