المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جزء غير منسوب باب: سیدنا جزء رضی اللہ عنہ، جن کا سلسلہ نسب معلوم نہیں
حدیث نمبر: 2117
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ أَسَدَ بْنَ وَدَاعَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ جُزْءٌ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَهْلِي يُغْضِبُونِي فَبِمَ أُعَاقِبُهُمْ؟ فَقَالَ: «تَعْفُو» ، ثُمَّ قَالَ: الثَّانِيَةَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا قَالَ: «فَإِنْ عَاقَبْتَ فَعَاقِبْ بِقَدْرِ الذَّنْبِ وَاتَّقِ الْوَجْهَ»ترجمہ
اسد بن وداعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی جسے جزء کہا جاتا تھا، نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے گھر والے مجھے غصہ دلاتے ہیں، تو میں انہیں کس طرح سزا دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”معاف کر دو۔“ پھر دوبارہ وہی سوال دہرایا، یہاں تک کہ تین بار دہرایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر سزا دینی ہی ہو تو گناہ کے بقدر دو، اور چہرے پر مارنے سے بچو۔“