❮
❯
حدیث نمبر: 2116
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا حِصْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشٍ السُّلَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَزْءٍ، يَقُولُ: أَنْبَأَنِي حِبَّانُ بْنُ جَزْءٍ، عَنْ جُزْءٍ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَسِيرٍ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ صَحَابَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا أَسَرُوهُ وَهُمْ مُشْرِكُونَ، ثُمَّ أَسْلَمُوا، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَاكَ الْأَسِيرِ، فَكَسَا جُزْءًا بُرْدَيْنِ وَأَسْلَمَ جُزْءٌ عِنْدَهُ، ثُمَّ قَالَ: «ادْخُلْ عَلَى عَائِشَةَ تُعْطِيكَ مِنَ الْأَبْرُدِ الَّتِي عِنْدَهَا بُرْدَيْنِ» فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: أَيْ نَضَّرَكِ اللهُ اخْتَارِي لِي مِنْ هَذِهِ الْأَبْرُدِ الَّتِي عِنْدَكَ بُرْدَيْنِ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَسَانِي مِنْهَا بُرْدَيْنِ، فَقَالَتْ ومَدَّتْ سِوَاكًا مِنْ أَرَاكٍ طَوِيلًا، فَقَالَتْ خُذْ هَذَا وَخُذْ هَذَا، وَكَانَتْ نِسَاءُ الْعَرَبِ حِينَئِذٍ لَا يُرَيْنَ
ترجمہ

سیدنا جزء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ ایک قیدی کو، جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھا اور ان کے پاس تھا، لے کر آئے - انہیں ان کی قوم نے اس وقت قید کیا تھا جب وہ خود مشرک تھے، پھر وہ مسلمان ہو گئے، تو وہ اس قیدی کو لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے جزء کو دو چادریں پہنائیں، اور جزء نے آپ ﷺ کے پاس اسلام قبول کیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ کے پاس جاؤ، وہ تمہیں ان چادروں میں سے جو ان کے پاس ہیں دو چادریں دے دیں گی۔“ چنانچہ وہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور کہا: اللہ آپ کو تروتازہ رکھے، ان چادروں میں سے جو آپ کے پاس ہیں دو چادریں میرے لیے منتخب کر دیجیے، کیونکہ نبی اللہ ﷺ نے ان میں سے مجھے دو چادریں پہنائی ہیں۔ انہوں نے پیلو کی ایک لمبی مسواک بڑھائی اور کہا: یہ لے لو، اور یہ لے لو۔ اس وقت عرب عورتیں (نامحرموں کے سامنے) نظر نہیں آتی تھیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2116
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 268، حدیث 2129