المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
شفاء بنت عبد الله بن هاشم بن خلف بن عبد شمس أم سليمان بن أبي حثمة باب: سیدہ شفاء بنت عبداللہ بن ہاشم بن خلف بن عبدشمس رضی اللہ عنہا، سلیمان بن ابی حثمہ کی والدہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْجَرَّاحِ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنْ كُرَيْبٍ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: أَخَذَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا إِلَى شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ، يُصَلِّي إِلَى أُسْطُوَانَةٍ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لَهُ عَلِيٌّ: حَدِّثْنَا بِحَدِيثِ أُمِّكَ فِي الرُّقْيَةِ، فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا كَانَتْ تَرْقِي بِرُقْيَةٍ لَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ قَالَتْ: لَا أَرْقِي بِهَا حَتَّى أسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَتَيْتُهُ فَاسْتَأْمَرْتُهُ فَقَالَ: «ارْقِ مَا لَمْ يَكُنْ فِيهَا شِرْكٌ»کریب کندی رحمہ اللہ کہتے ہیں: علی بن حسین رحمہ اللہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم قریش کے ایک بزرگ کے پاس گئے جنہیں ابن ابی حثمہ کہا جاتا تھا، وہ ایک ستون کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم ان کے پاس بیٹھ گئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو علی نے ان سے کہا: ہمیں دم کے بارے میں اپنی والدہ کی حدیث سنائیے۔ انہوں نے کہا: میری والدہ نے مجھے بیان کیا کہ وہ جاہلیت میں اپنا ایک دم کیا کرتی تھیں، جب اسلام آیا تو انہوں نے کہا: میں اس دم سے اس وقت تک دم نہیں کروں گی جب تک رسول اللہ ﷺ سے اجازت نہ لے لوں۔ چنانچہ میں آپ ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ سے اجازت طلب کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”دم کرو جب تک اس میں شرک نہ ہو۔“