المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
شفاء بنت عبد الله بن هاشم بن خلف بن عبد شمس أم سليمان بن أبي حثمة باب: سیدہ شفاء بنت عبداللہ بن ہاشم بن خلف بن عبدشمس رضی اللہ عنہا، سلیمان بن ابی حثمہ کی والدہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ، فَجَعَلَ يَعْتَذِرُ إِلَيَّ، وَأَنَا أَلُومُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَخَرَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنَتِي، وَهِيَ تَحْتَ شُرَحْبِيلِ بْنِ حَسَنَةَ، فَوَجَدْتُ شُرَحْبِيلَ فِي الْبَيْتِ، فَقُلْتُ: قَدْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْبَيْتِ، وَجَعَلْتُ أَلُومُهُ فَقَالَ: «يَا خَالَةُ لَا تَلُومِينِي فَإِنَّهُ كَانَ لَنَا ثَوْبٌ فاسْتَعارَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي كُنْتُ أَلُومُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ وَهَذِهِ حَالُهُ وَلَا أَشْعُرُ، فَقَالَ شُرَحْبِيلٌ: مَا كَانَ إِلَّا دِرْعٌ رَقَّعْنَاهُسیدہ شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس (کچھ) مانگنے آئی، تو آپ ﷺ مجھ سے معذرت کرنے لگے اور میں آپ ﷺ کو ملامت کرنے لگی۔ پھر نماز کا وقت ہو گیا تو میں نکلی اور اپنی بیٹی کے ہاں گئی جو شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی۔ میں نے شرحبیل کو گھر میں پایا، تو میں نے کہا: نماز کا وقت ہو گیا اور تم گھر میں ہو؟ اور انہیں ملامت کرنے لگی۔ انہوں نے کہا: اے خالہ! مجھے ملامت نہ کرو، ہمارا ایک کپڑا تھا جو نبی کریم ﷺ نے عاریتاً لے لیا تھا۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں، میں آج دن بھر آپ ﷺ کو ملامت کرتی رہی اور آپ ﷺ کا یہ حال ہے، اور مجھے پتا ہی نہ تھا۔ شرحبیل نے کہا: وہ صرف ایک کُرتا (دِرع) تھا جس پر ہم نے پیوند لگایا ہوا تھا۔