المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
شفاء بنت عبد الله بن هاشم بن خلف بن عبد شمس أم سليمان بن أبي حثمة باب: سیدہ شفاء بنت عبداللہ بن ہاشم بن خلف بن عبدشمس رضی اللہ عنہا، سلیمان بن ابی حثمہ کی والدہ
حدیث نمبر: 21165
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ، فَجَعَلَ يَعْتَذِرُ إِلَيَّ، وَأَنَا أَلُومُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَخَرَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنَتِي، وَهِيَ تَحْتَ شُرَحْبِيلِ بْنِ حَسَنَةَ، فَوَجَدْتُ شُرَحْبِيلَ فِي الْبَيْتِ، فَقُلْتُ: قَدْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْبَيْتِ، وَجَعَلْتُ أَلُومُهُ فَقَالَ: «يَا خَالَةُ لَا تَلُومِينِي فَإِنَّهُ كَانَ لَنَا ثَوْبٌ فاسْتَعارَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي كُنْتُ أَلُومُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ وَهَذِهِ حَالُهُ وَلَا أَشْعُرُ، فَقَالَ شُرَحْبِيلٌ: مَا كَانَ إِلَّا دِرْعٌ رَقَّعْنَاهُترجمہ
روایت ہے: نماز کا وقت ہو گیا تو میں نکلی اور اپنی بیٹی کے ہاں گئی جو شرحبیل بن حسنہ کے نکاح میں تھی۔ میں نے شرحبیل کو گھر میں پایا، تو میں نے کہا: نماز کا وقت ہو گیا اور تم گھر میں ہو؟ اور انہیں ملامت کرنے لگی۔ انہوں نے کہا: اے خالہ! مجھے ملامت نہ کرو، ہمارا ایک کپڑا تھا جو نبی کریم ﷺ نے عاریتاً لے لیا تھا۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں آج سے آپ کو ملامت کر رہی تھی اور آپ کا یہ حال ہے، مجھے پتا ہی نہ تھا۔ شرحبیل نے کہا: وہ صرف ایک پُرانی زرہ تھی جسے ہم نے پیوند لگا کر ٹھیک کیا تھا۔