حدیث نمبر: 21156
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُيَسَّرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ فَيْرُوزَ، عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ مُسْرِحٍ، قَالَتْ: كُنْتُ فِيمَنْ حَضَرَ فَاطِمَةَ حِينَ ضَرَبَهَا الْمَخَاضُ فِي نِسْوَةٍ، قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كَيْفَ هِيَ؟» قُلْنَا: إِنَّهَا لَتَجْهَدُ، قَالَ: «إِذَا هِيَ وَضَعَتْ فَلَا تَسْبِقِينِي فِيهِ بِشَيْءٍ» قَالَتْ: فَوَضَعَتْ فَلَفَفْتُهُ فِي خِرْقَةٍ صَفْرَاءَ وحَنَّكْتُهُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كَيْفَ هِيَ؟» قُلْتُ: قَدْ وَضَعَتْ يَا رَسُولَ اللهِ ولَفَفْتُهُ فِي خِرْقَةٍ وحَنَّكْتُهُ، قَالَتْ: فَقَالَ: «قَدْ عَصَيْتِينِي» قُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ مَعْصِيَةِ اللهِ، وَمَعْصِيَةِ رَسُولِهِ حَنَّكْتُهُ، ولَفَفْتُهُ، وَلَمْ أَجِدْ مِنْ ذَلِكَ بُدًّا، قَالَ: " ائْتِينِي بِهِ فَأَلْقَى عَنْهُ الْخِرْقَةَ الصَّفْرَاءَ، ولَفَّهُ فِي خِرْقَةٍ بَيْضَاءَ، وَتَفَلَ فِي فِيهِ، وألْبَاهُ بَرِيقِهِ فَجَاءَ عَلِيٌّ فَقَالَ: «مَا سَمَّيْتُهُ يَا عَلِيُّ؟» قَالَ: أَسْمَيْتُهُ جَعْفَرًا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّهُ حَسَنٌ، وَبَعْدَهُ حُسَيْنٌ، وَأَنْتَ أَبُو حَسَنِ الْخَيْرِ»
ترجمہ

سیدہ سودہ بنت مِسرَح رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں ان عورتوں میں سے تھی جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر تھیں جب انہیں دردِ زہ شروع ہوا۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”وہ کیسی ہے؟“ ہم نے عرض کیا: وہ سخت تکلیف میں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ بچہ جن لے تو اس معاملے میں مجھ سے آگے نہ بڑھنا۔“ چنانچہ انہوں نے بچہ جن دیا، تو میں نے اسے زرد کپڑے میں لپیٹ دیا اور اس کی گھٹی دے دی۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”وہ کیسی ہے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انہوں نے بچہ جن دیا ہے، میں نے اسے کپڑے میں لپیٹ دیا اور اس کی گھٹی دے دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے میری نافرمانی کی۔“ میں نے عرض کیا: میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں، میں نے تو صرف گھٹی دی اور اسے لپیٹا، اور اس کے سوا کوئی چارہ نہ پایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اس پر سے زرد کپڑا ہٹا کر اسے سفید کپڑے میں لپیٹا، اس کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور اپنے لعاب سے اسے گھٹی دی۔ اتنے میں علی رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے علی! تم نے اس کا کیا نام رکھا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اس کا نام جعفر رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ حسن ہے، اور اس کے بعد حسین ہو گا، اور تم ابوحسنِ خیر ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21156
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 311، حدیث 786