المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
سعدى امرأة أخرى لم تنسب باب: ایک اور سعدیٰ، جن کا نسب معلوم نہیں
حدیث نمبر: 21143
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، قَالَ: ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسْعَدَ الْعَمِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ جَدَّتِهِ سُعْدَى أَوْ أَسْمَاءَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ لَهَا: «يَا عَمَّةُ حُجِّي» فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ، وَإِنِّي أَخَافُ الْحَبْسَ فَقَالَ: «حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّيَ حَيْثُ حُبِسْتُ»ترجمہ
سیدہ سُعدیٰ یا اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور ان سے فرمایا: ”اے پھوپھی! حج کرو۔“ انہوں نے عرض کیا: میں کمزور و بیمار عورت ہوں، اور مجھے روکے جانے کا خدشہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حج کرو، اور شرط لگا لو کہ میں وہیں سے احرام کھول دوں گی جہاں روک لی جاؤں۔“