المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
سلمى امرأة أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقال مولاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويقال مولاة صفية بنت عبد المطلب " باب: سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا، ابورافع رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام، کی زوجہ؛ انہیں رسول اللہ ﷺ کی آزاد کردہ لونڈی بھی کہا جاتا ہے، اور بعض کے نزدیک صفیہ بنت عبدالمطلب کی آزاد کردہ لونڈی
حدیث نمبر: 21129
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا فَائِدٌ، مَوْلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ سَلْمَى أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالُوا: صِفِي لَنَا طَعَامًا مِمَّا كَانَ يُعْجِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْلُهُ، فَقَالَتْ: يَا بَنِيَّ إِذًا لَا تَشْتَهُونَهُ الْيَوْمَ، فَقُمْتُ " فَأَخَذْتُ شَعِيرًا فَطَحَنَتُهُ، ونَسَفْتُهُ وَجَعَلْتُ مِنْهُ خُبْزَةً وَكَانْ أَدْمَهَ الزَّيْتِ، وَنَثَرْتُ عَلَيْهِ الْفُلْفُلِ فَقَرَّبْتُهُ إِلَيْهِمْ، وَقُلْتُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ هَذَا "ترجمہ
سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں حسن بن علی، عبداللہ بن جعفر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس گئی، تو انہوں نے کہا: ہمیں وہ کھانا بتائیں جسے نبی کریم ﷺ پسند فرماتے تھے۔ میں نے کہا: بیٹو! پھر تو تمہیں آج اس کی خواہش نہیں ہو گی۔ چنانچہ میں اٹھی، جَو لیا، اسے پیسا اور صاف کیا، اور اس سے روٹی بنائی، اس کا سالن زیتون کا تیل تھا، اور میں نے اس پر کالی مرچ چھڑک دی، پھر یہ ان کے سامنے پیش کیا اور کہا: نبی کریم ﷺ یہ پسند فرماتے تھے۔