حدیث نمبر: 21112
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَهْلَةَ بِنْتِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، امْرَأَةِ أَبِي حُذَيْفَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلِيَّ وَهُوَ ذُو لِحْيَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ» ، فَقُلْتُ: كَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ ذُو لِحْيَةٍ؟ فَقَالَ: «أَرْضِعِيهِ» فَأَرْضَعْتُهُ، فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا
ترجمہ

سیدہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا، ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ، کہتی ہیں: یا رسول اللہ! حذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم میرے پاس آتے ہیں حالانکہ ان کی داڑھی نکل آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے دودھ پلا دو۔“ میں نے عرض کیا: میں اسے کیسے دودھ پلاؤں جبکہ اس کی داڑھی نکل آئی ہے؟ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”اسے دودھ پلا دو۔“ چنانچہ میں نے اسے دودھ پلا دیا، تو وہ پھر بلا روک ٹوک ان کے پاس آنے جانے لگے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21112
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 292، حدیث 742