المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
زينب بنت أبي معاوية الثقفية امرأة عبد الله بن مسعود باب: سیدہ زینب بنت ابی معاویہ ثقفیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، أَنَّ امْرَأَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ وَأَنَا فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: «تَصَدَّقْنَ، وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ» ، فَسَلْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ إِنْفاقِي عَلَيْكَ وَعَلى بَنِي أَخِي يُجْزِئُ عَنِّي مِنَ الصَّدَقَةِ، وَإِلَّا أَنْفَقْتُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ؟ فَقَالَ: إِنِّي أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلُهُ، فَسَلِيهِ أَنْتِ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى بَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حَاجَتُهَا حَاجَتِي فَأَتَى عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا: يَا بِلَالُ، أَقْرِئْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللهِ، وَأَخْبِرْهُ أَنَّ لَنَا أَزْوَاجَنَا، وَبَنِي إِخْوَانِنَا إِنْ كَانَ إِنْفاقُنا عَلَى أَزْوَاجِنَا وَبَنِي إِخْوَانِنَا يُجْزِئُ عَنَّا وَإِلَّا أَنْفَقْنا فِي سَبِيلِ اللهِ؟ فَدَخَلَ بِلَالٌ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: " أَقْرِئْهُما السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللهِ، وأَنْبِئْهُما أَنَّ إِنْفاقَهُما عَلَى أَزْوَاجِهِمَا، وَبَنِي أَخَوَاتِهِما ضِعْفَيْنِ: ضِعْفُ الصِّلَةِ، وَضِعْفُ الصَّدَقَةِ "روایت ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ (زینب رضی اللہ عنہا) نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں انصار کی عورتوں کے ساتھ تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ کرو، خواہ اپنے زیورات ہی میں سے کیوں نہ ہو۔“ تو رسول اللہ ﷺ سے پوچھو کہ کیا تم پر اور میرے بھتیجوں پر خرچ کرنا مجھے صدقے کی طرف سے کافی ہو گا، ورنہ میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کروں گی؟ عبداللہ نے کہا: مجھے ان سے پوچھتے ہوئے شرم آتی ہے، تم خود پوچھ لو۔ چنانچہ میں نبی کریم ﷺ کے دروازے تک پہنچی تو دیکھا کہ ایک انصاری عورت بھی وہاں ہے جس کی ضرورت وہی تھی جو میری تھی۔ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے تو ہم نے کہا: اے بلال! رسول اللہ ﷺ کو ہماری طرف سے سلام اور اللہ کی رحمت پہنچاؤ، اور انہیں بتاؤ کہ ہمارے شوہر اور ہمارے بھتیجے ہیں، کیا ہمارا اپنے شوہروں اور بھتیجوں پر خرچ کرنا ہمیں کافی ہو گا، ورنہ ہم اسے اللہ کی راہ میں خرچ کریں گی؟ چنانچہ بلال اندر گئے اور آپ ﷺ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں سلام اور اللہ کی رحمت پہنچاؤ، اور انہیں بتاؤ کہ ان کا اپنے شوہروں اور بھانجوں پر خرچ کرنا دوہرا اجر رکھتا ہے: صلہ رحمی کا اجر اور صدقے کا اجر۔“