حدیث نمبر: 2109
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَزْهَرَ الْأُبُلِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْعَتَكِيُّ، ثنا هِلَالُ بْنُ حَقٍّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ أَخِيهِ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ، عَنِ الْجَارُودِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَفِي الظُّهْرِ قِلَّةٌ، فَتَذَاكَرْنَا مَا يَكْفِينَا مِنَ الظُّهْرِ، قُلْنَا: ذَوْدٌ نَأْتِي عَلَيْهِمْ بِجُرُفٍ فَنَسْتَمْتِعُ بِظُهُورِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرْقُ النَّارِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَا تَقْرَبَنَّهَا»
وَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي الضَّالَّةِ تَجِدُهَا فَلَا تُغَيِّبْ وَلَا تَكْتُمْ، فَإِنْ عَرَفْتَ فَأَدِّهَا، وَإِلَّا فَمَالُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ»
ترجمہ

سیدنا جارود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: …ہم نے آپس میں گفتگو کی کہ ہمیں سواری کے اونٹوں کی کیا ضرورت ہے، ہم نے کہا: ہم دریا کنارے سے کچھ اونٹوں کے پاس سے گزرتے ہیں تو ان کی پیٹھوں سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا جلنا ہے“، تین بار فرمایا، ”اس کے قریب مت جاؤ۔“
اور نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گم شدہ چیز کے بارے میں، جسے تم پاؤ، نہ اسے غائب کرو اور نہ چھپاؤ، اگر پہچان لو تو اسے دے دو، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے، وہ اسے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2109
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 267، حدیث 2122