المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
زينب بنت أبي سلمة بن عبد الأسد المخزومي " وهي ربيبة رسول الله صلى الله عليه وسلم " باب: سیدہ زینب بنت ابی سلمہ بن عبدالاسد مخزومی رضی اللہ عنہا، وہ رسول اللہ ﷺ کی ربیبہ (پروردہ) تھیں
حدیث نمبر: 21085
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ثنا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ أُمِّي إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ يَقُولُ: «اذْهَبِي فَادْخُلِي» ، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ فَنَضَحَ فِي وَجْهِيَ الْمَاءَ، ثُمَّ قَالَ: «ارْجِعِي» قَالَ الْعَطَّافُ: قَالَتْ أُمِّي: «فَرَأَيْتُ وَجْهَ زَيْنَبَ، وَهِيَ عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ مَا نَقَصَ مِنْ وَجْهِهَا شَيْءٌ»ترجمہ
سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب رسول اللہ ﷺ غسل فرماتے تو میری والدہ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) مجھ سے فرماتیں: ”جاؤ، اندر چلی جاؤ۔“ تو میں اندر گئی تو آپ ﷺ نے میرے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، پھر فرمایا: ”واپس جاؤ۔“ عطاف (راوی) کہتے ہیں: میری والدہ نے بتایا: میں نے زینب رضی اللہ عنہا کا چہرہ (بڑھاپے میں بھی) دیکھا، وہ عمر رسیدہ بوڑھی تھیں مگر ان کے چہرے میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔