حدیث نمبر: 21079
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، سَأَلَتْهُ مَا سَمَّيْتَ ابْنَتَكَ؟ قَالَ: سَمَّيْتُهَا بَرَّةَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ هَذَا الِاسْمِ، سَمَّيْتَ بَرَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمُ اللهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ» قَالُوا: وَمَا نُسَمِّيهَا؟ قَالَ: «سَمُّوهَا زَيْنَبَ» ،
ترجمہ

روایت ہے کہ (سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کسی سے) پوچھا: تم نے اپنی بیٹی کا کیا نام رکھا ہے؟ اس نے کہا: میں نے اس کا نام بَرّہ رکھا ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس نام سے منع فرمایا ہے، تم نے بَرّہ نام رکھا! (اصل واقعہ یہ ہے کہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اپنے آپ کو پاک نہ ٹھہراؤ، اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں سے کون نیک ہے۔“ لوگوں نے عرض کیا: تو ہم اس کا نام کیا رکھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا نام زینب رکھو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21079
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 280، حدیث 709