حدیث نمبر: 2107
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: حَدِيثَانِ حَدَّثْتُهُمَا قَدْ حُفِظَا لِي، حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ الْجَذْمِيُّ، عَنِ الْجَارُودِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَفِي الظُّهْرِ قِلَّةٌ، فَتَذَاكَرَ الْقَوْمُ الظُّهْرَ بَيْنَهُمْ، فَقُلْتُ أَنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَمُرُّ بِذَوْدٍ مِنَ الظُّهْرِ فِي جُرُفٍ فَنَسْتَمْتِعُ بِظُهُورِهِنَّ؟ قَالَ: «لَا، ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرْقُ النَّارِ، ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرْقُ النَّارِ، ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرْقُ النَّارِ» ، ثَلَاثًا قَالَ: «وَاللُّقَطَةُ تَجِدُهَا فَانْشُدْهَا ثُمَّ لَا تَكْتُمْ وَلَا تُغَيِّبْ فَإِنْ وَجَدْتَ رَبَّهَا فَأَدِّهَا، وَإِلَّا، فَإِنَّمَا هُوَ مَالُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ يُوَجِّهُهُ إِلَى مَنْ يَشَاءُ»
ترجمہ

سیدنا جارود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: …لوگوں نے آپس میں مسافر اونٹوں کے بارے میں گفتگو کی، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم دریا کنارے چرتے ہوئے اونٹوں کے پاس سے گزرتے ہیں تو کیا ہم ان کی پیٹھوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا جلنا ہے، مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا جلنا ہے، مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا جلنا ہے“، تین بار فرمایا۔ پھر فرمایا: ”اور گری پڑی چیز، جسے تم پاؤ، تو اس کا اعلان کرو، پھر نہ اسے چھپاؤ اور نہ غائب کرو، اگر تمہیں اس کا مالک مل جائے تو اسے دے دو، ورنہ وہ اللہ عزوجل کا مال ہے، وہ اسے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2107
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 266، حدیث 2120