المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خالد بن ذاكوان أبو الحسين البصري، عن الربيع باب: خالد بن ذاکوان، ابوحسین بصری، کی سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21068
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَالْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلِيَّ صَبِيحَةَ بُنِيَ بِي فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٍ يَضْرِبْنَ بِدُفٍّ لَهُنَّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى أَنْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ:
وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ،
فَقَالَ: «دَعِي هَذَا وَقُولِي الَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ»ترجمہ
سیدہ رُبَیِّع بنت مُعَوِّذ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جس صبح میری رخصتی ہوئی، نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میرے بستر پر بیٹھ گئے۔ چند چھوٹی لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور بدر کے دن شہید ہونے والے میرے باپ دادا کا نوحہ کر رہی تھیں، یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا: ”اور ہم میں ایک نبی ہیں جو کل کی بات جانتے ہیں“
تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ چھوڑ دو اور وہی کہو جو پہلے کہہ رہی تھیں۔“