المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو جعفر الخطمي، عن الربيع بنت معوذ باب: ابوجعفر خطمی کی سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21065
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ حَمْدَوَيْهِ الصَّفَّارُ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَالْجَوَارِي يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ، ويُغَنِّينَ فَدَخَلَتْ عَلَيْنَا الرَّبِيعُ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَبِيحَةَ عُرْسِي، وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ وَتَنْدُبَانِ آبَائِي الَّذِينَ قُتِلُوا بِبَدْرٍ، وَتَقُولَانِ:
وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ
فَقَالَ: «أَمَّا هَذَا فَلَا، وَقُولَا لَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ»ترجمہ
ابوجعفر خطمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم عاشوراء کے دن مدینہ میں تھے اور لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور گا رہی تھیں، اتنے میں سیدہ رُبَیِّع (بنت مُعَوِّذ) رضی اللہ عنہا ہمارے پاس آئیں، ہم نے ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میری شادی کی صبح رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، اور میرے پاس دو لڑکیاں گا رہی تھیں اور بدر کے دن شہید ہونے والے میرے باپ دادا کا نوحہ کر رہی تھیں، اور کہہ رہی تھیں: ”اور ہم میں ایک نبی ہیں جو کل کی بات جانتے ہیں“
تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بات تو نہیں (کہنی)، اور یوں کہو: کل کی بات اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“