المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
رائطة بنت عبد الله الثقفية امرأة عبد الله بن مسعود باب: سیدہ رائطہ بنت عبداللہ ثقفیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ عَنْ رَائِطَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ، امْرَأَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ أُمِّ وَلَدِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً صَنَاعًا، وَلَيْسَ لِابْنِ مَسْعُودٍ مَالٌ، وَكَانَتْ تُنْفِقُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَلَدِهِ مِنْ ثَمَنِ صَنْعَتِهَا، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ، وَوَلَدُكَ عَنِ الصَّدَقَةِ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ بِشَيْءٍ، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ وَهُوَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ ذَاتُ صَنْعَةٍ أَبْتَغِي بِهَا، وَلَيْسَ لِي، وَلَا لِزَوْجِي شَيْءٌ، وَلَا لِوَلَدِي فَشَغَلُونِي لَا أَتَصَدَّقُ فَقَالَ: «لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ مَا أَنْفَقَتِ عَلَيْهِمْ»سیدہ رائطہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا، جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ اور ان کی اولاد کی ماں تھیں، ایک ہنرمند خاتون تھیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس مال نہ تھا، اور وہ اپنی دستکاری کی قیمت سے ان پر اور ان کی اولاد پر خرچ کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے اور تمہاری اولاد نے مجھے صدقہ کرنے سے مشغول کر دیا ہے، چنانچہ میں تمہارے ساتھ ہوتے ہوئے کچھ بھی صدقہ نہیں کر پاتی۔ انہوں نے کہا: اگر اس میں تمہارے لیے اجر نہ ہو تو میں نہیں چاہتا کہ تم ایسا کرو۔ چنانچہ سیدہ رائطہ رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ایک ہنرمند عورت ہوں، اپنے ہنر سے کمائی کرتی ہوں، اور نہ میرے پاس کچھ ہے، نہ میرے شوہر کے پاس اور نہ میری اولاد کے پاس، وہ مجھے مصروف رکھتے ہیں کہ میں صدقہ نہیں کر پاتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے اس میں اس کا اجر ہے جو تم نے ان پر خرچ کیا۔“