المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
رائطة بنت عبد الله الثقفية امرأة عبد الله بن مسعود باب: سیدہ رائطہ بنت عبداللہ ثقفیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ
حدیث نمبر: 21036
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ رَائِطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَكَانَتْ صَنَاعًا، وَكَانَتْ تَبِيعُ مِنْ صَنْعَتِهَا، وَتَتَصَدَّقُ فَقَالَتْ لِعَبْدِ اللهِ يَوْمًا: لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ، وَوَلَدُكَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ شَيْئًا، فَقَالَ: مَا تُحِبِّينَ أَنْ يَكُونَ لَكِ أَجْرَانِ؟، فَسَأَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: «إِنَّ لَكَ أَجْرَ مَا أَنْفَقَتِ عَلَيْهِمْ»ترجمہ
سیدہ رائطہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ، ایک ہنرمند خاتون تھیں، وہ اپنی دستکاری میں سے بیچتیں اور صدقہ کرتی تھیں۔ ایک دن انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تم نے اور تمہاری اولاد نے مجھے مشغول کر رکھا ہے، چنانچہ میں تمہارے ساتھ ہوتے ہوئے کچھ بھی صدقہ نہیں کر پاتی۔ اس پر انہوں نے کہا: کیا تم نہیں چاہتیں کہ تمہیں دوہرا اجر ملے؟ چنانچہ دونوں نے نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے اس کا اجر ہے جو تم نے ان پر خرچ کیا۔“