المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
رائطة بنت سفيان الخزاعية باب: سیدہ رائطہ بنت سفیان خزاعیہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَمَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْحَاطِبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ، قَالَتْ: كُنْتُ مَعَ أُمِّي رَائِطَةَ بِنْتِ سُفْيَانَ امْرَأَةٍ مِنْ خُزَاعَةَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُهُنَّ، وَهُوَ يَقُولُ: «أُبَايِعُكُنَّ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقْنَ، وَلَا تَزْنِينَ، وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ، وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ، وَأَرْجُلِكُنَّ، وَلَا تَعْصِيَنِّي فِي مَعْرُوفٍ» ، فَأَطْرَقْنَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْنَ نَعَمْ فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّهُ» ، فَقُلْنَا: نَعَمْ فِيمَا اسْتَطَعْنَا، فَكُنْتُ أَقُولُ كَمَا يَقُلْنَ، وَأُمِّي تَقُولُ: قُولِي نَعَمْ، قُولِي نَعَمْعائشہ بنت قدامہ بن مظعون بیان کرتی ہیں: میں اپنی والدہ رائطہ بنت سفیان رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھی، جو قبیلہ خزاعہ کی ایک خاتون تھیں، اور نبی کریم ﷺ عورتوں سے بیعت لے رہے تھے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ گی، چوری نہیں کرو گی، زنا نہیں کرو گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی، اپنے ہاتھوں اور پیروں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر نہیں لاؤ گی، اور کسی نیک کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گی۔“ اس پر وہ خاموش ہو گئیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: ہاں، جہاں تک ہم سے ہو سکے گا۔“ ہم نے کہا: ہاں، جہاں تک ہم سے ہو سکے گا۔ میں بھی وہی کہتی جو وہ کہتیں، اور میری والدہ کہتی جا رہی تھیں: ہاں کہو، ہاں کہو۔